ابنا: ذرائع کے مطابق 29 اگست 2008 کو تل ابیب سے امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لوئس جی مورینو نے واشنگٹن کو مراسلہ ارسال کیا جس میں اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کے 23 اگست کو قاہرہ دورے اور مصری سابق صدر حسنی سے ملاقات کی تفصیل بتائی گئی۔ مراسلے میں عرب امور کے اسرائیلی مشیر ڈیویڈ ہچم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مصر کے صدر حسنی مبارک، مصری انٹیلی جنس کے سربراہ اور حسنی مبارک کے دست راست عمر سلیمان اور وزیر دفاع محمد حسین طنطاوی سے مذاکرات میں اتفاق کیا گیا کہ ایران کو اس کے ایٹمی عزائم ہرگز پورے نہیں کرنے دیے جائینگے۔ فریقین اس بات پر بھی متفق تھے کہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ سے نمٹنے کیلئے مصر اور اسرائیل کے اسٹریٹیجک مقاصد یکساں ہیں۔ واضح رہے کہ حسنی مبارک نے مصر کو عالم اسلام سے الگ کرکے اسرائیل اور امریکہ کے حوالے کردیا تھا لیکن مصری عوام 30 سال بعد پھر مصر کو اسلام کی آغوش میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
.........
/110